You are here
Home > منتخب کالم نگار > ڈاکٹر محمد اجمل نیازی > کیا آصف زرداری بھٹو خاندان کے سیاسی جانشین کہلانے کے مستحق ہیں ۔۔۔؟ بزرگ پاکستانی صحافی نے ایسی بات کہہ دی کہ قصہ ہی ختم ہو گیا

کیا آصف زرداری بھٹو خاندان کے سیاسی جانشین کہلانے کے مستحق ہیں ۔۔۔؟ بزرگ پاکستانی صحافی نے ایسی بات کہہ دی کہ قصہ ہی ختم ہو گیا

لاہور(ویب ڈیسک)کیا خورشید شاہ کو پتہ ہے کہ قائد حزب اختلاف آدھا وزیراعظم ہوتا ہے مگر کبھی پورا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ خواجہ آصف کے بعد وہ وزیر خارجہ خود بلکہ خود بخود ہو گئے ہیں۔ نواز شریف کہتے ہیں کہ میرا مقابلہ خلائی مخلوق سے ہے۔چودھری شجاعت نے کہا کہ

نامور کالم نگار اجمل نیازی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔نواز شریف میں ہمت ہے تو بتائے کہ خلائی مخلوق کیا ہے؟ فواد چودھری نے کہا بلکہ تڑی لگائی کہ نواز شریف کا مقابلہ پی ٹی آئی یا پی پی سے نہیں ہو گا۔ مقابلہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے ہو گا۔ مولا بخش چانڈیو کہتے ہیں کہ نواز شریف تڑی اور ترلے کی سیاست کرتے ہیں۔ یہ سادہ سی بات اچھی لگی ہے مگر نواز شریف حکومت کے خلاف باتیں کرتے ہیں جبکہ شاہد خاقان عباسی کو انہوں نے نامزد کیا تھا۔ عباسی کہتے ہیں کہ وزیراعظم تو نواز شریف ہیں۔ انہوں نے ایک بہت مزے کی بات کر کے حیران کر دیا ہے کہ بجٹ آئین کے مطابق ہے تو کیا بجٹ آئین کے خلاف بھی ہوتا ہے؟شاہد خاقان عباسی نے 59 وزرا پر مشتمل کابینہ بنائی ہے۔ اتنی بڑی کابینہ پہلے کبھی نہ تھی۔ شاہد خاقان عباسی مبارکبادیں وصول کر رہے ہیں۔ اصل مبارکباد کے مستحق نواز شریف ہیں مگر نواز شریف موجودہ حکومت کے خلاف باتیں کرتے ہیں جبکہ خاقان کو انہوں نے خود نامزد کیا ہے۔ فواد چودھری نے کہا ہے کہ نواز شریف کا اصل مقابلہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے ہو گا۔

جاوید ہاشمی بولتے ہیں تو دلیری سے بولتے ہیں۔ نیب مسلم لیگ ن کو ختم کر کے نئی پارٹی سامنے لانے والی ہے۔ تو کیا وہ مسلم لیگ نون مسلم لیگ ن غنہ بن جائے گی۔خورشید شاہ کو عمران خان فوبیا ہو گیا ہے۔ کہتے ہیں عمران دیوانے کی طرح خواب میں وزارت عظمیٰ دیکھتے ہیں۔ کون ہے جو یہ خواب نہیں دیکھتا مگر خورشید شاہ کو تو پتہ ہے کہ کچھ بھی ہو جائے وہ وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ قائد حزب اختلاف آدھا وزیر تو ہوتا ہے۔ وزارت کی مراعات بھی لیتا ہے۔ اس کی حیثیت وزیر سے زیادہ ہوتی ہے۔ کیا شاہ صاحب کو پتہ ہے کہ وہ قائد حزب اختلاف ہیں۔اگلے الیکشن میں بلاول اور آصفہ بھی اسمبلی میں ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کے جیالے چاہیں گے کہ بلاول وزیراعظم بنے مگر زرداری صاحب کا خیال ہو گا کہ آصفہ وزیراعظم بنے۔ میرا خیال بھی آصفہ کے لئے ہے مگر ہو گا وہی جو زرداری صاحب چاہتے ہیں۔ جب آصفہ پیدا ہوئی تو زرداری صاحب غالباً جیل میں تھے۔ بیٹی کا نام آصفہ انہوں نے ہی رکھا ہو گا۔ بختاور تو کہیں نظر ہی نہیں آتی۔ بختاور کا نام بے نظیر بھٹو نے رکھا ہو گا۔بھٹو صاحب کے دو ہی جانشین بظاہر نظر آتے تھے۔

مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر بھٹو۔ اب بھٹو صاحب کے جانشین صرف زرداری صاحب ہیں۔ اسی نسبت سے زرداری کی نسبت بھی باقی رہے گی۔ زرداری صاحب نے اپنے بچوں کے نام بھی اس طرح رکھے کہ دونوں نسبتوں کو سلامت رکھا جا سکے۔ بھٹو بھی اور زرداری بھی۔ زرداری صاحب بہت گہرے اور مستحکم شخصیت کے آدمی ہیں۔ بھٹو کی نسبت کو اولیت دی۔ بلاول بھٹو زرداری‘ آصفہ بھٹو زرداری۔ تو یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ وہ سیاست کو سمجھتے ہیں۔ زرداری صاحب بھٹو صاحب سے کم نہیں مگر مختلف ہیں۔ یہ موازنہ بنتا نہیں ہے۔زرداری صاحب کے عزائم حیران کن ہیں۔ انہوں نے جو سوچا وہ پا لیا۔ وہ پانچ سال تک ایوان صدر میں رہے۔ ایک ممتاز آدمی کی طرح آئے اور ایک محترم آدمی کی طرح گئے۔ اب وہ ہمیشہ کے لئے سابق صدر ہیں۔میں نے انہیں دور سے دیکھا ہے اور قریب سے بھی دیکھا ہے۔ وہ حیران کر دینے والے آدمی ہیں۔ میں انہیں ایوان صدر اسلام آباد میں ملا اور پھر بلاول ہاؤس لاہور میں ملا۔ مجھے کچھ فرق نظر نہیں آیا۔ وہ کچھ بھی ہو جائیں۔ اک زرداری سب پر بھاری۔ اس نعرے کے جواب میں انہوں نے کہا تھا۔ اک زرداری سب سے یاری۔

ان کے موجودہ اقدامات سے لگتا ہے کہ وہ پورے اور پکے سیاستدان کے طور پر میدان میں ہیں۔ وہ نواز شریف کے بارے میں جو حقائق سامنے لائے وہ قابل غور ہیں۔ آج تک یہ باتیں سامنے نہ آئی تھیں۔ نواز شریف کی وہ تصویر سامنے آئی ہے جو انہوں نے چھپا کر رکھی ہوئی تھی۔یہ سب کچھ زرداری صاحب نے کیوں کیا؟ ایک وقت تھا کہ وہ نواز شریف سے ملاقات اور گل بات کے لئے کراچی سے لاہور آئے تھے۔ نواز شریف کے لئے انہوں نے بہت کچھ کیا۔ اب زرداری صاحب کو سب پتہ چل گیا ہے۔ تاحیات نااہل ہونے کے بعد سب کچھ نواز شریف کو اب پتہ چل رہا ہے کہ انہوں نے کہاں کہاں غلطیاں کی ہیں۔ایک بات میں نواز شریف نے دانائی کا مظاہرہ کیا کہ اپنی سیاسی جدوجہد نہ چھوڑی۔ اب تک نظروں میں ہیں اور خبروں میں ہیں۔اپنی جماعت کے دیرینہ ساتھیوں کو سنبھال کے رکھا جاتا تو شاید معاملات کچھ ٹھیک رہتے۔ چودھری نثار بہت جینوئن سیاستدان ہیں مگر نواز شریف نے خواجہ آصف کو ترجیح دی۔ نواز شریف ذراسی بات برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ سیاست میں یہ رویہ بہت خطرناک ہے۔ پارٹی کے اندر کوئی تو ایسا آدمی ہو جو سچی بات دلیری سے کر سکے اور سامنے کر سکے۔

مگر سیاست میں بھی آمرانہ رویوں کو فروغ ملا ہے۔ اس سلسلے کو آمرانہ جمہوریت یا جمہوری آمریت کہا جا سکتا ہے۔ نواز شریف اب سمجھتے ہیں کہ وہ ایران کے امام خمینی کی طرح غیر متنازعہ لیڈر ہیں۔ تاحیات نااہلی کے بعد ان کا یہ خیال اور بھی پکا ہو گیا ہے۔ ان کی سوچ بہت ذاتی ہو گئی ہے۔ وہ قومی معاملات میں سنجیدگی سے غیر سنجیدہ ہیں۔میرا خیال ہے کہ اب وہ سب کچھ مریم نواز کو سونپ دیں۔ وہ بھی اب پوری طرح سیاستدان بن گئی ہیں۔ انہیں خیال رکھنا ہو گا کہ منسٹر لوگوں سے ان کا رویہ بہت بہتر ہونا چاہئے۔ ہر شخص قابل احترام ہے۔ نواز شریف کا یہ نعرہ اچھا ہے کہ ووٹ کو عزت دو۔ تو پھر ووٹر کو بھی عزت دینا چاہئے۔ پاکستانی سیاست میں ہمیشہ ووٹر کو کسی قابل نہیں سمجھا جاتا۔ جمہوریت کے نام پر جو کچھ لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اسے صرف غیر جمہوری رویہ کہا جا سکتا ہے۔ آمرانہ جمہوریت اور جمہوری آمریت کے پردے میں جمہوریت کے لئے شور مچانا ایک سیاسی ہتھکنڈا بن چکا ہے۔ ہمارے سیاستدان ذہنی طور پر کبھی جمہوری نہیں ہیں۔ وہ صرف حکومت کرنا چاہتے ہیں اور حکومت کے لئے حکمت سے کام لینے کو مناسب نہیں سمجھتے۔(ن)

Leave a Reply

Top