You are here
Home > منتخب کالم نگار > ہارون الرشید > عمران خان اور 65 سے 70 فیصد پاکستانی عوام نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیج دی تواس بات پر شور کیوں مچایا جا رہا ہے ؟ کپتان کے مخالف کالم نگار نے شاندار بات کہہ ڈالی

عمران خان اور 65 سے 70 فیصد پاکستانی عوام نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیج دی تواس بات پر شور کیوں مچایا جا رہا ہے ؟ کپتان کے مخالف کالم نگار نے شاندار بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) مقدر کے قیدی‘ہم سب انتظار میں ہیں اللہ کے انصاف کے منتظر ۔پوری قوم تاریخ کے چوراہے پر کھڑی چیخ رہی ہے۔ غوروفکر کی فرصت کسی کو نہیں۔ کہا نہیں جا سکتا کہ کیا ہوگامگر کوئی نہ کوئی غیر متوقع چیز رونما ہو کر رہے گی۔ معاشرے جب ہیجان کا شکار ہو جاتے ہیں تو حادثہ لازمی طور پہ برپا ہوتا ہے۔

نامور کالم نگار ہارون رشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ آخری نتیجے میں یہ مثبت بھی ہو سکتا ہے مگر شکست و ریخت کے بعد۔ ایسی شکست و ریخت جو ایک بار قوم کو لرزا کے رکھ دے۔ عمران خان کے سب سے بڑے مشیر شیخ رشید نے پارلیمنٹ پہ ہزار بار لعنت کی تو ایک بار کپتان نے بھی بھیج دی۔ پورے کے پورے میڈیا نے‘ جس میں ان کے حامی بھی شامل تھے‘ اس حرکت کو افسوس ناک قرار دیا۔ جنونیوں کی بات دوسری ہے‘کسی بھی مکتب فکر کا کوئی ایک ہوش مند آدمی بھی ان کا دفاع کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ اس سے بڑا حادثہ یہ ہوا کہ خلق سے جب پوچھا گیا تو 64سے 70 فیصد لوگوں نے عوامی نمائندوں کو لعنت کا مستحق سمجھا۔ صرف پارلیمنٹ نہیں یہ جمہوریت پہ عدم اعتماد ہے۔ اس جعلی جمہوریت پہ جس کے گیت سب سے بڑھ کر آصف علی زرداری گاتے ہیں۔ نواز شریف ‘عمران خان‘ تمام فعال طبقات بھی۔ اس سوال کا جواب کوئی نہیں دیتا کہ یہ جمہوریت ناکام کیوں ہے۔ معاشی ترقی اور امن کا قیام صرف فوجی ادوار میں کیوں ہوا؛ اگرچہ اس کے اپنے عوارض ہیں۔اتنے زیادہ کہ مدتوں قیمت چکانی پڑتی ہے۔

دوسرے بھی وحشت میں کم مبتلا نہیں۔ سندھ پولیس بھتہ وصول کرنے والا ایک گروہ بن چکی اور سب جانتے ہیں کہ جناب آصف علی زرداری کے سائے میں۔سندھ پولیس نے الطاف حسین کی ایم کیو ایم کا خلا بہ تمام و کمال پر کر دیا ہے۔ رائو انوار جیسے کردار اس میں ابھرے ہیں‘ جنہوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی مافیا بنا رکھی ہیں۔ ان کے اپنے جیل خانے ہیں‘ اپنا جاسوسی نظام۔ ڈنکے کی چوٹ جو بے گناہوں کو اغوا کرتے اور بعض اوقات بے دردی سے قتل کر ڈالتے ہیں۔ اندرونِ سندھ تقریباً ہر بارسوخ اب پیپلز پارٹی کا حصہ ہے۔ عامیوں کے ساتھ وہ جانوروں سے بدتر سلوک کرتے ہیں اور پولیس وڈیروں کا بازوئے شمشیر زن ہے۔ ایک منصفانہ الیکشن میں پیپلز پارٹی آدھی سیٹیں ہی لے سکتی ہے مگر منصفانہ الیکشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلوچستان میں کوئٹہ کے سوا پولیس کہیں موجود ہی نہیں۔ لیویز ہیں‘ جن میں بھرتی قبائلی سرداروں کی مدد سے ہوتی ہے۔ وہی ان کی تنخواہیں وصول کرتے اور انہی کے احکامات کی وہ پیروی کرتے ہیں۔ سولہ برس پہلے ان لیویز کو پولیس میں ڈھالنے کا منصوبہ بنایا گیا مگر 2002ء میں منتخب ہونے والی اسمبلی نے بیک جنبشِ قلم مسترد کر دیا‘ جب کہ اربوں خرچ کیے جا چکے تھے۔ پھر اس میں تعجب کیا کہ اسمبلی کے بہت سے ارکان خرید لیے گئے۔ اب پختون خوا پہ نظر ہے۔ملک ایک منڈی بن گیا ہے اور اسے جمہوریت کا حسن کہا جاتا ہے۔

پختون خوا پولیس کو عمران خان نے بہتر بنایا ہے۔ سیاسی مداخلت کم ہو گئی‘ برائے نام۔ سکول اور ہسپتال بھی قدرے بہتر ہوئے ہیں۔ شہباز شریف کچھ ہی کہیں‘ ماحولیات پر بھی توجہ دی گئی۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک ارب درخت واقعی گاڑے گئے۔ عالمی ادارے توثیق کرتے ہیں۔ اپوزیشن مگر مان کر نہیں دیتی۔ اب ایسا کوئی طریقہ موجود نہیں کہ ایک ارب درخت اکھاڑ کر اسلام آباد کی شاہراہ دستور پہ رکھ دئیے جائیں اور مخالفین کو گنتی کرنے کی دعوت دی جائے۔ حقائق واضح کرنے سے میڈیا کو کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کی ترجیح ٹاک شو ہیں‘ جن میں لوگ ایک دوسرے پر چیختے چلاتے ہیں تاکہ پہلے سے ہی موجود ہیجان میں اور اضافہ ہو۔ مقبولیت بڑھے اور اشتہارات بھی۔ تمام توجہ صوبے میں حکومت کاری بہتربنانے کی بجائے‘ عمران خان سارا وقت یہ ثابت کرنے میں لگے رہے کہ ان کے دونوں بڑے مخالفین ٹھگ‘ چور اور ڈاکو ہیں۔ الیکشن سر پہ کھڑے ہیں اور اب بھی ان کی روش یہی ہے۔ خان کا جذبۂ انتقام کسی طرح تسکین نہیں پاتا۔سامنے کی اس حقیقت کو اس نے نظرانداز کر دیا ہے کہ ان حالات میں الیکشن وہ جیت بھی جائے تو حکومت کیسے کرے گا۔ اس امن کا حصول کیوں کر ممکن ہو گا جس کے بغیر استحکام حاصل ہوتا ہے اور نہ معاشی نمو۔ بے روزگاری کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے‘ صحت اور تعلیم کی سہولتیں مہیا کی جا سکتی ہیں اور نہ آزاد خارجہ پالیسی کی تعمیر۔(ش س م)

Leave a Reply

Top