You are here
Home > کالمز > دیس پردیس > چیئرمین صاحب َ: میڈیا کے کچھ اینکروں کا رزق ہی لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے سے بندھا ہے لہذٰا آپ ہو شیا ر ہو جائیے اور ۔۔۔۔ نامور خاتون کالم نگار نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو خبردار کر دیا

چیئرمین صاحب َ: میڈیا کے کچھ اینکروں کا رزق ہی لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے سے بندھا ہے لہذٰا آپ ہو شیا ر ہو جائیے اور ۔۔۔۔ نامور خاتون کالم نگار نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو خبردار کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک )چئیر مین نیب جسٹس جاوید اقبال اپنے ساتھیوں میں ایک دیانت دار فرد کے طور پر جانے جاتے ہیں جو سرکاری خزانے کو اتنی احتیاط سے خرچ کرتے رہے ہیں کہ ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے نہ صرف یہ کہ تنخواہ لینے سے انکار کیا

نامور کالم نگار طیبہ ضیاء اپنے کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔بلکہ کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لیے غیر ضروری پروٹوکول اور گاڑیاں بھی استعمال کرنے سے گریز کرتے رہے۔ سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد جسٹس جاوید اقبال نے بطورچیف جسٹس بھی فرائض سرانجام دیئے تاہم انہوں نے نومبر 2007 کی ایمرجنسی کے بعد حلف لینے سے انکار کر دیا۔ جسٹس جاوید اقبال 24 جولائی 2011 کو ریٹائر ہوئے اور انہوں نے ایبٹ آباد کمیشن اور لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی بھی کی۔چئیر مین نیب جانتے ہیں کہ نواز فیملی کے مقدمات سے قطع نظر نیب کو بھی احتساب کی ضرورت ہے۔نواز دور حکومت کا ہر سیاستدان یا سرکاری ملازم کرپشن میں ملوث نہیں۔ ایماندار انسان کی جمع پونجی اس کی عزت ہوتی ہے۔ اگر اسے بھی داﺅ پر لگا دیا جائے تو اس شریف آدمی کے پلے کیا بچا؟ چیئرمین نیب بہت حساس کرسی پر تشریف فرما ہیں۔ انہیں اس حقیقت سے با خبر ہونا چاہئے کہ سیاسی عناد اور مخالفت میں کئی صاف لوگ بھی سازش کا شکار ہو رہے ہیں۔اور چئیر مین نیب کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ ماشا اللہ کچھ میڈیا اور اینکروں کا رزق لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے سے نتھی ہے۔

انہیں تو بس کسی کے خلاف معمولی سی خبر ملنی چاہئے پھر اس کی سات پشتوں کو گندا کرنے کا فن پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کے مترادف ہے۔ چئیر مین نیب آنے والی حکومت کی پرانی حکومت کے خلاف سیاسی عناد اور مخالفت کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔ سب چور نہیں ہوتے اور نہ سب بد عنوان ہوتے ہیں اور نہ ہی آنے والی حکومت فرشتوں پر مشتمل ہے۔نیب کی ریپو ٹیشن پر بھی بے شمار سوالات اور تحفظات اٹھائے جاتے ہیں۔ نیب بھی دودھ کا دھلا نہیں۔قومی احتساب بیورو پاکستان کا سرکاری ادارہ ہے، جو بدعنوانی سے متعلق ہے۔ اس کے انگریزی نام (Bureau National Accountability ) کا مخفف نیب (NAB) ہے۔ یہ 16 نومبر، 1999ءکو صدارتی فرمان کے اجرا کے ذریعہ معرض وجود میں آیا۔ پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو ملک میں بدعنوان عناصر کا سہولت کار بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے بدعنوانی کو جڑ سے ا±کھاڑنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔یہ ریمارکس سپریم کورٹ کے جج جسٹس شیخ عظمت سعید نے قومی احتساب بیورو کے ‘پلی بارگین’ کے اختیار سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیے۔تفتیش کے مرحلے میں پلی بارگین ہونے کے بعد اس معاملے کی تفتیش کرنے والے افسر کو وصول ہونے والی رقم کا 25 فیصد حصہ ملتا ہے۔

بلوچستان کے سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق احمد ریئسانی پر 40 ارب روپے کی خردبرد کا الزام تھا۔ نیب نے صرف 2 ارب روپے لے کر ا±سے چھوڑ دیا۔ ا±س کے گھر چھاپہ مارنے پر 75 کروڑ روپے کی رقم اور سونا برآمد ہوا تھا۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو کوئی ایگزیکیوٹنگ ایجنسی نہیں ہے جو لوگوں کے معاملات طے کریں اور ان کے لیے وصولیاں کریں۔ چیف جسٹس اور جسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ ریمارکس ایڈووکیٹ شمائل احمد بٹ کی وساطت سے سٹیل ملز مالکان سے پیسکو کی واجب الادا رقم کی ریکوری کے خلاف دائر رٹ درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیے۔20 اکتوبر 2017ءکو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا بیان ہے کہ نیب کرپشن ختم کرنے کی بجائے کرپٹ ترین ادارہ بن چکا ہے۔ تھانے کچہری میں انصاف بکتا ہے۔قومی احتساب بیورو کے چیئرمیں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ہمارے ہاں لٹیرے بہت ہیں، ملک ایک ہے، لوٹنے والوں نے اس کو خوب لوٹا ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ کرپشن جب من حیث القوم آ جائے تو اس کا ختم کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس وقت جو ملک کے حالات ہیں اس میں کرپشن بہت تیزی سے پنپنے لگی ہے

اور شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ جو طوفان بلاخیز تھا اس کو روکنے کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔چیئرمین نیب نے کہا بیورو کریسی خاص کر پنجاب کے بعض اداروں سے ان کے ادارے کو عدم تعاون کی شکایت ہے، جسے اب تک مسکرا کر برداشت کیا، لیکن آئندہ عدم تعاون ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ عدم تعاون کی روش مناسب نہیں، اسے ختم کریں، آئندہ شکایت ہوئی تو حکومت پنجاب کے تمام افسران کے لیے بڑی مشکل ہو جائے گی’۔جسٹس ریٹائرڈ جاوید نے کہا کہ وہ سارے پاکستان کے عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ ان کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے، بس تھوڑا وقت دے دیا جائے۔۔۔چئیر مین نیب کی نیت اور کاوشوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ حقیقت بھی ان کے علم میں ہونی چاہئے کہ ایماندار افسران کو بھی بلا جواز پریشان کیا جا رہا ہے۔جس کا دل کرتا ہے جھوٹ پر مبنی کیس بنا کر نیب کے دروازے پر جا پہنچتا ہے۔اب یہ چئیر مین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے محکمے کا بھی احتساب کریں اور جائزہ لیں کہ کہیں بے قصور لوگ تو سازش کا شکار نہیں ہو رہے ؟ نیب سازشوں کا نہ صرف سختی سے نوٹس لے بلکہ بے بنیاد کیسز اور شکایات کا فوری طور پرازالہ کرے۔(ز،ط)

Leave a Reply

Top