You are here
Home > کالمز > E کس خاتون کی کوششوں اور محنت کے باعث نواز شریف ایک کامیاب سیاستدان بنے اور اب وہ عورت کہاں اور کس حال میں ہے؟ نامور صحافی کا ایسا انکشاف کہ یقین کرنا مشکل ہو جائے گا

E کس خاتون کی کوششوں اور محنت کے باعث نواز شریف ایک کامیاب سیاستدان بنے اور اب وہ عورت کہاں اور کس حال میں ہے؟ نامور صحافی کا ایسا انکشاف کہ یقین کرنا مشکل ہو جائے گا

لاہور (ویب ڈیسک) محترمہ کلثوم نواز گرمیاں نواز شریف کی اہلیہ نہ ہو تیں تو ان کا پاکستانی سیاست میں کیا نام اور کام ہونا تھا؟ یہ ایک سادہ سا سوال ہے۔ مگر اس کے جواب کی تلاش میں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔خود میاں نواز شریف جو سیاست میں نہ آئے ہوتے تو ان کا کیا مقام اور احترام قرار پاتا؟


نامور کالم نگاراحمد جواد بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔یہ بات پاکستان میں بجا ہونے کے باوجود بے جا ہے۔کیونکہ یہاں جو کوئی ہے کسی نہ کسی کی وجہ سے ہے اور یہی وجوہات اس کے ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔ وطن عزیز میں سیاسی حوالے سے عورتوں کا عمل دخل کچھ زیادہ نہیں رہا۔ صرف پاکستان میں کیا،پوری دنیا میں مرد کی نسبت عورت اس شعبے میں کچھ زیادہ متحرک نہیں۔تحریک قیام پاکستان کے دوران چند سُند ر نام ضرور ملتے ہیں، تاہم پہلے تاریخی اجالے کے طور پر جس عظیم خاتون نے اپنے آپ کو منوایا، وہ محترمہ فاطمہ جناح ہیں۔ مادرِ ملت! مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے بعد پھر یکے بعد دیگرے دونام ابھرے، اولاً محترمہ نصرت بھٹو صاحبہ، جنہیں ایک وسیع حلقے میں مادرِ جمہوریت کے حوالے سے یاد کیا کرتے ہیں۔ ثانیاً، بے نظیر بھٹو!جو دختر مشرق اور شہید جمہوریت بھی کہلواتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے بعد دو نام اور بھی ہیں۔ان کا کسی سے مقابلہ ہرگز نہیں، اورنہ ہی کسی کے مقابل ان کو رکھا جارہا ہے۔ یہ بھی ماں بیٹی ہیں۔ محترمہ کلثوم نواز صاحبہ اور مریم نواز! محترمہ کلثوم نواز جنہیں مادرِ وطن کے حوالے سے بھی یاد کیا جاسکتا ہے، جبکہ مریم نواز کو دختر پاکستان !محترمہ فاطمہ جناح سے کسی کا تقابل یا مقابلہ نہیں بنتا تھا لیکن بُرا ہو ہوس اقتدار کا، چھوٹے ظرف کے بڑے لوگوں نے ایسا کیا۔


اقتدار پرستوں نے ان کے روبرو بلکہ دوبدوکون سے گل نہیں کھلائے۔ان سب کو یاد کر کے کلیجہ منہ کو آتا اور ’’ جمہوریت بی بی سے ‘‘ دل میں شدید نفرت جنم لیتی ہے۔یہ نہ شبنم ہے نہ بھٹکے ہوئے تاروں کاہجوم۔۔را ت کی لاش پر ٹپکے ہیں سحر کے آنسو!ہم دیکھتے ہیں کہ محترمہ کلثوم نواز بنیادی طور پر ایک کامیاب گھریلو خاتون ہیں۔ انہوں نے میاں نواز شریف کا خوب ساتھ نبھایا، حتیٰ کہ کسی حد تک سیاست میں بھی، جنرل پرویز مشرف نے 12اکتوبر 1999ء میں میاں نواز شریف کو گرفتار کیا تو وہ دیکھتے ہی دیکھتے خلاف توقع گھر سے باہر آگئیں۔ ان کا عملی سیاست میں دھیرے سے قدم رکھنا تھا کہ معلوم ہوا مسلم لیگ(ن)ابھی زندہ ہے۔ پھر مختلف طور طریقوں سے اس کی زندگی کے ثبوت ملتے چلے گئے پھر کیا ہوا؟ چند برس بعد دیکھا گیا کہ میاں نواز شریف نہ صرف باہر سے ملک میں آئے، بلکہ تیسری مرتبہ اقتدار سے بھی ہمکنار ہوئے۔دوسری طرف جنرل پرویز مشرف اختیار کی راہداریوں سے یوں نکلے کہ اب تک انہیں اقتدار تو کیا واپسی کی بھی راہ نہیں مل پارہی، اور شاید کبھی مل بھی نہ پائے۔ محترمہ کلثوم نواز کو تین بار خاتون اول ہونے کا اعزاز حاصل ہوا,


جو کسی بھی پاکستانی خاتون کو پہلی بار نصیب ہوا مگر وہ عملاً گھریلو خاتون ہی ہیں۔ وہ کچھ عرصہ مسلم لیگ (ن) کی صدر بھی نامزد ہوئیں اور ایک دفعہ احتجاج کے دوران مال روڈ لاہور سے انتظامی بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ان کی گاڑی کو کرین سے اٹھا لیا گیا۔یہ منظر کیمرے کی آنکھ سے براہ راست دنیا نے دیکھا۔ بے نظیر بھٹو شہید کے بعد ایک اور جنرل نہتی خاتون سے ڈر گیا۔ یہ سیاسی جنرل بھی اندر سے کتنے کمزور اور بزدل ہوتے ہیں۔ محترمہ کلثوم نواز اپنی فطرت میں از حد نفیس، شائستہ متین اور خوش اخلاق مانی جاتی ہیں۔میاں نواز شریف جیسے متنازع خاوند کی بیوی ہوتے ہوئے بھی ان کے حسن کردار، شرافت ، متانت اور سنجیدگی پر کبھی کسی نے انگلی نہیں اٹھائی ،حتیٰ کہ بدترین مخالفوں بلکہ دشمنوں نے بھی نہیں ! بتایا جاتا ہے کہ ان کا لاہور کے ایک معروف پہلوان خاندان سے تعلق ہے۔ غالباً رستم زماں گاماں پہلوان کے خاندان سے ! یہ بھی کہا گیا ہے کہ میاں نواز شریف نے اپنی پسند سے یہ شادی کی تھی۔ پسند کی شادی قرار دینے کو شاید اس وجہ سے بھی تقویت ملی کہ ان کے بعد میاں نواز شریف نے دوسری شادی نہیں کی۔محترمہ کلثوم نواز جیسا کہ نواز کے لاحقہ سے ظاہر ہے، اپنے خاوند کی رعایت سے جانی پہچانی گئی ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے ان کی اپنی اقدار ہیں۔ میاں نوازشریف پر صحیح یا غلط جو بھی الزام آئے ہیں، بی بی صاحبہ کو ان میں ملوث نہیں پایا گیا۔ بدنامی کے لحاظ سے کسی پہلو میں بھی ان کا نام زبان و بیان پر نہیں آتا۔وہ جیسی پہلے تھیں، تین بار خاتون اول ہونے باوجود ویسی ہی ہیں۔ اب وہ کم بخت سرطان کے مرض میں مبتلا اور وینٹی لیٹر پر ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت ان کو صحت عاجلہ و کاملہ عطا فرمائے۔ دختر پاکستان مریم نواز سیاست میں ان کی یاددلارہی ہیں۔وہ اپنی زندگی گزارنے کے بعد مریم نواز کی صورت میں زندہ رہیں گی۔ کیا مریم نواز ان کی اقدار کی امین ٹھہریں گی، اور اپنی والدہ کی اعلیٰ روایات نبھا پائیں گی؟ یہ پھر ایک سوال ہے اور اس سوال کا جواب دھندلے مستقبل میں پوشیدہ ہے!

آؤ لکھ دیں وقت کی تاریخ کا اک باب ہم

کچھ میرا افسانہ ہو، کچھ آپ کی روداد ہو۔۔۔(س)

Leave a Reply

Top