You are here
Home > خبریں > پاکستان > پاکستان میں اس عہدے پر تعیناتی ووٹروں سے بھی پہلے خود آئی ایم ایف کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔ تحریک انصاف کے نامور رہنما بابر اعوان کا تہلکہ خیز انکشاف

پاکستان میں اس عہدے پر تعیناتی ووٹروں سے بھی پہلے خود آئی ایم ایف کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔ تحریک انصاف کے نامور رہنما بابر اعوان کا تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) آئیے ذرا اپنے گھر کی خبر لیں۔ ہم ملکی حالات پر بولیں تو مایوسی کے پیامبر کی آواز سنائی دیتی ہے۔ معیشت پر یوں تبصرہ جیسے ہم افغانستان اور اریٹیریا سے بھی گئے گزرے ہیں۔ نوجوان نسل اور خاص طور پر قومی درس گاہوں کے بارے میں ایک ہی خبر شہ سرخی بنتی ہے:

نامور سیاستدان اور کالم نگار بابر اعوان روزنامہ دنیا میں اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔تعلیمی اداروں میں منشیات چھا گئیں۔ ہر مکرر اور خطیب اپنا اپنا منجن بیچتا ہے۔ کوئی مشترکہ امید۔ کوئی کامن آرزو۔ ذرا سا اپنے آپ، اپنے شکم، ذاتی مطلب اور شخصی مفادات سے اوپر اُٹھ کر گونجنے والی آواز، ہمیں اجنبی لگتی ہے۔ میں خود تو نہیں دیکھ سکا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلا حضرات کا کہنا تھا کہ ٹی سکرینوں پر قومی خود داری کا سب سے بڑا نقیب دونوں ہاتھ باندھ کر نصف رکوع کی حالت میں عہدِ حاضر میں کرپشن کے اسیرِ اعلیٰ کا بھاشن سنتے ہوئے پکڑا گیا۔ 1950ء کی دہائی میں ایک بین الاقوامی بینک کے کارندے پاکستان آئے۔ ویسے 3 دفعہ کابینہ کا رکن رہنے اور پاکستان کے موجودہ سسٹم کو اندر باہر سے دیکھنے والے چشم دید گواہ کی حیثیت سے ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں‘ پاکستان میں اس بینک کے کارندے اعلیٰ ترین عہدوں پر پاکستان سے تنخواہ وصولتے ہیں۔ 1958ء میں اسی بینک یعنی عالمی مالیاتی فنڈ نے پہلی بار پاکستان کو قرضہ د یا تھا۔ تب سے اب تک 60 سال ہو گئے‘ ہمیں قرض لیتے ہوئے۔ بقول غالب:قرض کی پیتے تھے مئے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں ۔۔۔ رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن ۔۔


اس دن نے بظاہر آنے میں 6 عشرے لیے لیکن اسے جیٹ سپیڈ پچھلے 10 سال کے دوران لگی۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے‘ پہلے آئی ایم ایف کے ملازم سسٹم میں پائے جاتے تھے۔ ان دس سالوں میں سسٹم آئی ایم ایف کی ملازمت میں چلا گیا۔ بقول جالب: قرض سے ملک بھی چلے ہیں کبھی ۔۔ زندہ قوموں کا یہ شعار نہیں ۔۔ اک نظر اپنی زندگی پر ڈال ۔۔۔اک نظر اپنے اردلی پر ڈال ۔۔۔ ہماری حکمران اشرافیہ نے آئی ایم ایف کی ملازمت سے ترقی کر کے اس کی اردل شروع کر دی۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ جونہی حکومتی سسٹم بننے یا بگڑنے پہ آتا ہے‘ آئی ایم ایف ہمارے ووٹروں سے بھی پہلے ہمارے لیے وزیرِ خزانہ چن لیتا ہے۔ یقین نہ ہو تو اکنامک ہِٹ مین پڑھ لیں۔ وکالت نامے کے آغاز میں امریکن رائٹرز گلڈ ایوارڈ کے تازہ مکرر‘ جو مصنف اور فلم میکر بھی ہیں‘ یہی تو کہہ رہے تھے ”معاشی قبضہ، صنعتی پیسہ، میڈیا یا سکیورٹی تذبذب‘‘۔ اور سچ کہہ رہے تھے۔ آج پاکستان کے سسٹم میں متبادل معیشت بن چکی ہے۔ بے نامی اکائونٹس، منی لانڈرنگ، کرپشن مافیا اور حکمرانوں کی امیج بلڈنگ کے لیے بنائی گئی کمپنیاں۔ ان کمپنیوں سے کلائنٹ کے حق میں اور کبھی کبھی کلائنٹ کے نام سے کالم، اشعار کے ٹوئٹ اور بھڑکتی ہوئی سرخیاں اور پھڑکتے ہوئے سوشل میڈیا پیغامات جاری ہوتے ہیں۔ کرپشن کے اس سسٹم کی گھاس کھانے کے بعد ایسی کئی مقدس ہستیاں بھرپور میک اپ کے ساتھ پرائم ٹائم کے ہیرو اور ہیروئنیں‘ بن جاتے ہیں۔ oliver stone کے یہ الفاظ ایک بار پھر پڑھیے: ”اس کھیل میں زیادہ تر تمہیں دُبر پر کِک لگے گی۔ کبھی تنقید اور بے عزتی ہو گی۔ کہیں سے چاپلوسی بھی۔ تم واضح فرق ڈال سکتے ہو۔ راستہ تلاش کرتے رہنا۔ اسے ہرگز تلاش نہ کرنا جسے بھیڑ نے پسند کیا اور تم کامیاب ہوئے۔‘‘ نظامِ پادشاہی، عالمی مشترکہ منڈی اور بین البرِاعظمی منی لانڈرنگ مافیا کے خلاف جنگ کے عشق کے زخم خوردہ یاد رکھیں: یہ تو اچھا ہوا زخمی ہی ہوئے ۔۔ عشق میں جان چلی جاتی ہے ۔۔

Leave a Reply

Top