You are here
Home > تعارف


طیبہ ضیا کا تعلق لاہور سے ہے ۔تمام تعلیم لاہور سے حاصل کی ۔ شادی کے بعد اپنے شوہر ڈاکٹر محمد اختر چیمہ کے ہمراہ امریکہ منتقل ہو گیئں ۔ خدا نے بیٹی مومنہ چیمہ اور بیٹوں فرید احمد چیمہ اور سعید احمد چیمہ سے نوازا ۔ طیبہ ضیا کی طبعیت میں خدمت انسانیت کا جزبہ بچپن سے ہی موجود تھا ۔امریکہ میں اس جزبہ کو مزید تقویت ملی اور طیبہ ضیا نے رضاکارانہ خدمات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ۔ امریکہ میں جن ریاستوں میں قیام کا موقع ملا ان میں فلوریڈا ، پینسلوانیا ،اوہائیو،میری لینڈ،ویسٹ ورجینیا ، نیویارک ہےں ۔ طیبہ ضیا نے بالٹی مور کالج سے ایجوکیشن میں تعلیم و تربیت کے بعد مختلف اسلامی سکولوں میں شعبہ تدریس کے فرائض انجام دئیے ۔ اسلامک سینٹرز کے میمبر کی حیثیت سے مسلم کمیونٹی کے ساتھ سوشل ورک کا سلسلہ بھی جاری رکھا جس میں میت کے غسل کفن سے لے کر ذندگی کے تمام شعبوں میں مسلم کمیونٹی کی خدمات ہےں ۔اسلامک سینٹر اف بالٹی مور کے اسلامی سکول اور مسجد کی بنیاد رکھنے والوں میں طیبہ ضیا کا اہم کردار ہے ۔امریکہ کی مشرقی ریاستوں میں ذبیحہ گوشت ہر تحقیقی رہورٹ لکھنے کا کریڈٹ بھی طیبہ ضیا کو جاتا ہے جس کے نتیجہ میں زبیحہ کے نام پر دو نمبر کاروبار کرنے والوں کی دکانیں بند کرا دی گیئں ۔ طیبہ ضیا ہفتہ وار کمیونٹی خواتین کو اسلامی اور معاشرتی موضوعات پر لیکچر بھی دیا کرتی تھیں ۔ضرورتمندوں کواسان اور مفت سہولیات پہنچانے کے بندوبست کرتیں مزید براں پاکستانیوں کے بچوں کو اردو زبان اورقرآن پاک کی تعلیم بھی دیتیں ۔ شوہر کی میڈیکل ڈگری مکمل ہوتے ہی طیبہ ضیا اپنے خاندان سمیت سعودی عرب شفٹ ہو گیئں ۔ ریاض میں تین سال قیام کے دوران طیبہ ضیا نے اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دلائ اور پھر یہ خاندان لاہور شفٹ ہو گیا ۔یہاں شوکت خانم میموریل ہسپتال کی خدمات کا موقع ملا ۔ طیبہ ضیا کا تدریسی مشن ان کی زندگی کا اہم پہلو ہے جو ہر ملک اور شہر میں ان کے ساتھ جاری رہا ۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال کے قیام کے بعد ان کےشوہر ڈاکٹر چیمہ کی خواہش پرطیبہ ضیا نےامریکہ واہسی کا سفر باندھ لیا ۔اور یوں یہ خاندان امریکہ واپس لوٹ گیا ۔ طیبہ ضیا نے امریکہ لوٹنے کے بعد 2000 میں نوائے وقت اخبار سے کالم نگاری کا با قائدہ سفر شروع کر دیا ۔ اس سے پہلے امریکہ و کینیڈا کے معروف اخبار اردو ٹائمز میں بھی چند مضامین شائع ئو چکے تھے ۔ طیبہ ضیا سات کتابوں کی مصنفہ ہےں ۔ دل کی باتیں ، وقت خود بتا دے گا ، گیارہ ستم بر، ڈریم لینڈ ، مومنہ، سچ تو یہ ہے، جھلی۔۔۔۔۔طیبہ ضیا پنجابی میں صوفیانہ شاعری کا شوق بھی رکھتی ہےں لیکن کتاب کی شکل دینے سے گریزاں ہےں ۔ تمام علمی و عملی مصروفیات کے علاوہ طیبہ ضیا ایک مشرقی روائتی بیوی اور ماں بھی ہےں ۔ طیبہ ضیا کی زندگی میں ایک ایسا حادثہ پیش ایا جس نے طیبہ ضیا کی زندگی کو قیامت سے آشنا کر دیا ۔ پچیس سالہ خوبصورت قابل نیک سیرت اور بے شمار صفات کی مالکہ بیٹی مومنہ نیویارک میں کار کے ایک حادثہ میں اللہ کو پیاری ہوگئیں ۔ طیبہ ضیا نے بیٹی کی یاد کومومنہ چیمہ فائونڈیشن کی صورت میں زندہ رکھا ۔مومنہ چیمہ فائونڈیشن کا مقصد امریکہ تا پاکستان تعلیم کا فروغ ہے ۔ پاکستان میں مستحق طالبات کو اعلی تعلیمی وظائف مہیا کئیے جاتے ہےں ۔ ضیا ان کے والد کا نام ہے جبکہ چیمہ شوہر ہے ، اس نسبت سے طیبہ ضیا چیمہ اپنے مکمل نام کے ساتھ امریکہ میں طویل عرصہ قیام کے باوجود ایک مکمل مشرقی اور محب وطن پاکستانی بیٹی تصور کی جاتی ہیں ۔ طیبہ ضیا چیمہ کا علمی قلمی اور عملی خدمات کا سفر ہر ملک اور ہر شہر میں جاری ہے ۔ اور مومنہ چیمہ فائونڈیشن طیبہ ضیا کا ابدی سفر ہے ۔طیبہ ضیا نے روحانیت پر طویل تحقیق کی اور بہت لکھا بھی ۔ دل کی باتیں اور جھلی ان کی یادگار تصانیف ہیں ۔ عرصہ دراز سے نوجوان نسل اور خواتین کی نفسیاتی و روحانی کانسلنگ بھی کرتی چلی آرہی ہیں.

Top